ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بھٹکل کے کورونا پوزیٹیو مریضوں کو کاروار اورمشتبہ مریضوں کو مرڈیشورمیں رکھاجائے گا۔ ڈپٹی کمشنر کا بیان

بھٹکل کے کورونا پوزیٹیو مریضوں کو کاروار اورمشتبہ مریضوں کو مرڈیشورمیں رکھاجائے گا۔ ڈپٹی کمشنر کا بیان

Fri, 27 Mar 2020 12:42:28    S.O. News Service

بھٹکل 27/مارچ (ایس او نیوز) بھٹکل ٹی ایم سی اور دیگر گرام پنچایتوں کے حدود میں ’ہیلتھ ایمرجنسی‘ لاگو کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ضلع ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ہریش کمار نے کاروار میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں کو اپنے گھروں میں بند رہنا چاہیے تاکہ کورونا وائرس کی خطرناک وبا ء کی روک تھام ہوسکے۔ 

 ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ  چونکہ عوام اس پر سنجیدگی سے عمل نہیں کررہے تھے اور صبح و شام گھروں سے باہر نکل رہے تھے۔ اس کے علاوہ کچھ وائرس سے متاثرہ مریض مسجدوں میں نماز میں بھی شامل ہوچکے تھے اور اپنے رشتے داروں سے میل جول کررہے تھے، اس لئے پورا علاقہ اس وائرس سے متاثر ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ صحت عامہ کے مفاد کے پیش نظرلاگو کیے گئے قوانین پر عوام کو بہت ہی سنجیدگی سے عمل کرنا چاہیے۔ لیکن عملاً ایسا نہیں ہورہا تھا اس لئے اب ’ہیلتھ ایمرجنسی‘ نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اگراس طرح بھٹکل کو مکمل طور پرلاک ڈاؤن نہیں کیا جاتا سماجی رابطے اور اس سے بیماری پھیلنے کے امکانات پر روک لگانا مشکل ہوجاتا۔البتہ اس اعلان سے کسی کو بھی خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

ڈی سی نے مزید بتایا کہ بھٹکل کے متاثرہ لوگوں کے براہ راست رابطے میں جتنے افراد آئے ہیں، ان کے گلے سے تھوک کانمونہ(swab)حاصل کرکے جانچ کے لئے بھیجا گیا ہے۔اور اب جو بھی مشتبہ مریض ہیں انہیں مرڈیشور کے آر این ایس اسپتال میں کڑی نگرانی (قرنطینہ) میں رکھا جائے گا، جبکہ طبی جانچ مثبت (پوزیٹیو) آنے والے مریضوں کو کاروارکے بحری اڈے (نیول بیس) میں واقع ’پاتنجلی‘ اسپتال میں منتقل کیا جائے گا تاکہ مریضوں کے رشتے داروں کو  خبر گیری کے بہانے بار بار ان مریضوں کے رابطے میں آنے سے روکا جاسکے۔

ڈپٹی کمشنر نے وہاٹس ایپ ایڈمینس کو وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کورونا کے سلسلے میں جھوٹی خبریں اور معلومات گروپس میں پوسٹ کرنے یا شیئر کرنے سے باز آئیں، ورنہ   ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اسی مقصد کے لئے پولیس کی ایک خصوصی ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے۔
 


Share: